خبیث جن زادیاں
مکمل اسٹوری
میں اور شہر یار جگری دوست تھے۔ ہم ساتھ پڑھے ، اور کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ کیونکہ ہمارا بچپن سے ہی ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ میں ایک عام سی شکل و صورت کا مالک تھا۔ جبکہ شہر یار جسے میں پیار سے شیری بولتا تھا بے پناہ حسین تھا۔ خدا نے اسے فرصت میں بنایا تھا۔ لڑکیاں تو لڑکیاں ، لڑکے بھی اسے دیکھ کر ششدر رہ جاتے تھے۔ وہ تھا ہی ایسا حسین و جمیل ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اپنی تعلیم سے فارغ ہوئے تھے۔ شہر یار کے والد ایک سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کا گزارا اچھی طرح ہورہا تھا ان کے والد کی اچھی تربیت کانتیجہ تھا کہ شیری نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔ ایک دن شیری میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ یار میں جِم جوائن کر رہا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ ہی لگ جاؤ۔ دونوں ساتھ آیا جایا کرینگے۔ میں نے اس سے کہا یار مجھے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئیے میری طرف سے معذرت ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ ان دنوں میرے گھر کے مالی حالات اچھے نہ تھے۔ میں اسے بتانا نہیں چاہتا تھا۔ اسلئیے کسی طرح میں نے اسے ٹال دیا ۔ شیری باقدعدگی سے جِم جانے لگا تھا۔ جبکہ میں ٹیوشن پڑھانے میں مصروف ہوگیا۔
ہم دونوں فارغ ہو کر ڈھیر ساری باتیں کیا کرتے تھے۔ باقاعدگی سے جم جانے کی وجہ سے شیری کی باڈی اور زیادہ خوبصورت ہوتی جارہی تھی۔ ایک روز میں نے اس سے کہا ۔ یار شیری تو ہر روز اپنی نظر اتار لیا کر۔ کہیں خدا نخواستہ تجھے میری ہی نظر نہ لگ جائے۔ اس بات پر وہ زور سے ہنستے ہوئے بولا ! یار میں ان چیزوں کو نہیں مانتا ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم بازار جاتے یا کسی رستے پر جارہے ہوتے تو لڑکیاں شیری کو مڑ مڑ کر دیکھا کرتیں۔ مگر شیری کوئی رسپانس نہیں دیتا۔ بس اپنے کام سے کام رکھتا۔ یہ اس کے والدین کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔ کہ اس نے کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ جب شیری کا جم والا کورس مکمل ہوگیا۔ تو شیری نے خود اپنا ذاتی جِم سنٹر کھولنے کا ارادہ کیا۔ کیونکہ ہمارے علاقے میں کوئی جِم نہیں تھا۔ اور شیری کو بھی یہ کورس کافی دور علاقے میں جا کر کرنا پڑا تھا۔ ہمارے علاقے میں ایسے بہت سے لڑکے تھے جو یہ شوق رکھتے تھے۔ مگر اپنی کنوینینس نہ ہونے کی وجہ سے بیچارے اپنے شوق کو اپنے دل میں ہی لئیے بیٹھے تھے۔ شیری نے جم سنٹر کے ماسٹر سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے شیری کا ہر طرح ساتھ دیا۔ اس طرح شیری نے ماسٹر کی مدد سے اس علاقے میں جم سنٹر کھول لیا اور پھر رفتہ رفتہ اس کے جمِ سنٹر نے اتنی ترقی کی کہ دور دراز سے لڑکے آنے لگے تھے۔ اور پھر یہ ہوا کہ شیری دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے اور جم سنٹر میں مصروف رہنے کی وجہ سے شیری اب مجھ سے کم ہی مل پاتا تھا۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ شائد شیری مغرور ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے اس ہر معاملے میں دل کھول کر دیا ہے غرور تو آنا ہی ہے۔
پھر میں اپنی خیالات کو فوراً ہی اپنے ذہن سے جھٹک دیتا کہ میرا دوست شیری ایسا نہیں ہوسکتا۔ جب میں اپنے خیالات شیری کے سامنے رکھتا تو وہ ہنستا اور کہتا یار دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے گی مگر میں نہیں بدل سکتا ۔ مجھے کچھ دنوں سے ایسا محسوس ہونے لگا۔ کہ شیری کئی دنوں سے کچھ بجھا بجھا سا رہنے لگا ہے۔ وہ میری بات کا ٹھیک سے جواب بھی نہیں دیتا ۔ اور کسی نہ کسی کام کا بہانہ بنا کر میرے پاس سے اٹھ جایا کرتا ہے۔ اس کا یہ رویہ مجھے کافی تکلیف دے رہا تھا۔ اس رویے سےدل برداشتہ ہو کر میں نے بھی اس سے ملنا جلنا کم کر دیا۔ مگر اس کے باوجود میں شیری کو ہر دم یاد رکھتا تھا۔ ایک دن میرے ٹیوشن کے بچوں کی چھٹی تھی ۔ میں نے سوچا شیری سے ملا جائے یہ سوچ کر میں اس کے جم سنٹر روانہ ہوگیا جب پہنچا تو دیکھا شیری خاصہ مصروف ہے جب وہ فارغ ہو کر آیا تو ہم نے کافی دیر باتیں کیں۔ پھر آنے کا کہہ کر میں اپنے گھر آگیا۔ شیری سے ملنے کے بعد میں اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ کیونکہ شیری کا رویہ مجھے کچھ بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ بچون کے پیپرز ہونے والے تھے اس لئیے میں اس میں مصروف ہوگیا اور شیری کی طرف جانا بالکل ختم ہوگیا اور نہ وہ خود مجھ سے ملنے آیا۔ ایک دن میں بچوں کو ٹیوشن دیکر فارغ ہوا تو شیری کا چھوٹا بھائی فیضی مجھے بلانے آگیا۔ کہ اس کی والدہ نے بلایا تھا۔ میں اپنی امی کو بتا کر اس کے ساتھ چلا گیا۔ شیری کی امی نے سلام کے جواب کے ساتھ ہی میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ پھر اس کے والدین مجھے الگ کمرے میں لے آئے ۔ مجھے صوفے پر بیٹھے کا اشارہ کیا اور خود بھی میرے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کے ابو بولے بیٹا تم میرے لئیے شیری جیسے ہو۔
میں نے کبھی تمہیں غیر نہیں سمجھا اور یقناً تم بھی خود کو اس گھر کا فرد ہی محسوس کرتے ہو گے۔ میں تم سے جو کچھ پوچھو نگا۔ مجھے بالکل سچ سچ بتانا۔ ہم شیری کی طرف سے بہت پریشان ہیں۔ اس کی دن بدن گرتی صحت اور گھر والوں سے کترانہ، ناجانے اسے کیا ہوگیا ہے۔ ہمیں تو کچھ بتاتا ہی نہیں ہے۔ تم شیری کے قریبی دوست ہو تم بتاؤ کہ کہیں کسی لڑکی وڑکی کا تو چکر نہیں ہے؟ کیا شیری کو ڈرگز تو نہیں لیتا؟ اگر کسی لڑکی کا چکر ہے تو کون ہے وہ لڑکی تم تو جانتے ہوگے نہ یا پھر اگر کوئی دوسری بات ہے تو وہ بھی بتاؤ! ان دونوں کی پریشانی دیکھ کر حقیقت میں، میں تو خود بھی پریشا ن ہوگیا تھا۔ میر ا شیری پہلے تو ایسا نہیں تھا۔ وہ تو ہر بات مجھ سے شئیر کیا کرتا تھا۔ پھر اب پتہ نہیں کیوں اتنا بدل گیا ہے۔ یقین کرو بیٹا اگر کسی لڑکی کا چکر ہے تو میں اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر اسے بھی قبول کر لونگی۔ اس کا بیک گراؤنڈ اور نہ ہی خاندان دیکھوں گی۔ مگر وہ مجھے بتائے تو صحیح۔ اگر کوئی اور بات ہے تو اپنے والد سے کہے۔ شیری میں تو ان کی جان ہے۔ وہ کیسے اس کی بات کر رد کر دینگے۔ شیری کے امی بڑ ے ہی دکھ سے بول رہی تھی۔ میں تو خود اس بارے کچھ نہیں جانتا آنٹی۔ شیری کا رویہ تو میرے لئیے بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ وہ دن بدن ترقی کرتے جِم سنٹر کی وجہ سے مغرور ہوگیا ہے۔
اس لئیے وہ مجھے کسی خاطر میں نہیں لارہا۔ مگر گھر میں بھی اس کا یہی رویہ ہے تو یقیناً کوئی بات ضرور ہے۔ شیری اس وقت کہاں ہے؟ میرے اس سوال کے جواب میں شیری کی امی نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے۔ میں ان سے اجازت لیکر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ جب میں شیری کے کمرے میں آیا۔ تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اور وہ بیڈ پر خاموش لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔میں اس کے قریب گیا اور اس سےپو چھا یار کیا حال بنا رکھا ہے تو نےاپنا۔اس نے مڑ کر میری طرف دیکھااور اٹھنے کی کو شش کرنے لگا مگر اس میں اتنی کمزوری .آچکی تھی کہ اس سے اٹھا بھی نہ گیا۔میں اس کی یہ حالت دیکھ کرآبدیدہ ہو گیا۔یہ وہ شیری تو نہ تھا جس کی خوب صورتی پر لوگ فدا تھے۔اب وہ ایک عجیب سی بے بسی اور لاچاری کی تصویر بنا ہوا تھا۔اس کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہ گئی اور میں گھر واپس آگیا۔اس کے بعد دو تین دن بہت مصروف گزرے۔میں شیری سے پھر ملنا چاہتا تھا مگرٹائم نہیں مل رہا تھا۔اس روز چھٹی کا دن تھا میں گھر پر ٹی وی کے آگے بیٹھا تھا کہ اتنے میں شیری کا چھوٹا بھائی پھر مجھ سے ملنے آگیا۔اور کہنے لگا،بھائی آپ کو امی نےبلایا ہے۔اگر آپ فارغ ہیں تو ابھی میرے ساتھ چلیں۔اس لئے شیری کے چھوٹے بھائی کے ساتھ جاناسے پہلے میں اپنی امی کو بتا کرآگیا۔اس کی والدہ مجھے اندرلے گئیں پھر شیری کی موجودہ حالت کے بارے میں بتاتے ہوئےانہوں نے کہا،بیٹا ! نا جانے میرے شیری کوکس کی نظر لگ گئی ہے اب تو وہ بالکل بستر کا ہو کر رہ گیا ہےڈاکٹروں کو تو دکھا یا ہےمگر اس کا مرض کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ہم اس سے پوچھتے ہیں تووہ ہمیں کچھ نہیں بتاتا۔بیٹا!تم ایک بار پھر کوشش کر کے
دیکھوشیری کی والدہ مجھ سےالتجا کر رہی تھیں۔آنٹی !آپ فکر نہ کریں۔بس اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں۔یہ کہہ کر میں شیری کے کمرے میں آیا۔اسے دیکھ کر مجھے ایک دھچکا سا لگا شیری کی بہت بری حالت تھی۔مجھے اپنے سامنے دیکھ کر وہ رونے لگااس کے تو رونے سے میں بھی پریشان ہوگیا۔ میں فوراً اس کے قریب پہنچا۔حوصلہ کرو اور مجھے بتاؤ یار کہ آخر یہ سب کیا ہے؟میں تو خود ایسی زندگی سے پریشان آچکا ہوں ،بجائے اسکے کہ میں والدین کا سہارا بنوں الٹا ان پر بو جھ بن گیا ہوں۔میرا ہر کام اب بیڈ پر ہوتا ہےمیں تو بس یہی دعا مانگتا ہوں کہ جلد سے جلد مجھے موت آجائےتاکہ اس اذیت بھری زندگی سے مجھے نجات ملے۔مایوسی کی باتیں مت کرتو ،تو میرا ہمت والا دوست ہے،تیرے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسوں نکل آئے۔۔۔تو ہی بتا میں کیا کروں؟شیری نے پو چھا۔تو وہ کر جو میں تجھ سے کہہ رہا ہوں یار تو بتاتا کیوں نہیں ہےکہ تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟تیری خاموشی،الجھاالجھا انداز !کچھ توہے جو تو ہم سب سے چھپا رہا ہے۔دل کی بات کہہ لینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔مجھ سے شیئر کر کیا پتہ اسی میں تیری بھلائی ہو۔یہ کہتے ہوئے میں نے محبت سے اسکا کاندھا تھپتھپایا۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعدشیری بہت دھیمے لہجے میں بولایار وعدہ کر تو کسی کوکچھ نہیں بتائے گاتبھی میں تجھے وہ کچھ بتاؤں گاجو میں نے اب تک کسی کو نہیں بتایا ہے۔وعدے کو چھوڑ یارتجھے اپنے دوست پر اعتبار نہیں ہے!اعتبار تو ہےمگر بات ہی ایسی ہےکہ میں بتانے کی ہمت نہیں کر پاتا۔میں نہیں چاہتا کہ سب کچھ جان لینے کے بعد کو ئی میرے بارے میں غلط رائے قائم کرےجبکہ میرا ان سب چیزوں میں کوئی قصور نہیں ہے۔یار اب بتا بھی دے!تو پہیلیاں کیوں بجھوا رہا ہے!شیری کچھ دیر چھت کو دیکھتارہاپھر بولاتم جانتے ہو کہ ۔۔
شیری کچھ دیر چھت کو دیکھتارہاپھر بولاتم جانتے ہو کہ میرے جم کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔میرے جم سنٹر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہےتو ایک دن میں جم میں لڑکوں کو ورزش کروا رہا تھاکہ میرے جم سنٹر میں دو لمبے قد کی عورتیں داخل ہوئیں انہوں نے اپنے چہرے نقاب میں ڈھانپے ہوئے تھے۔ وہ چلتے ہوئے سیدھی میرے پاس آکر رکیں۔ ان میں سے ایک عورت نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا! کیسے ہو شیری! میں اس کے منہ سے اپنا نام سن کر حیران رہ گیا کیونکہ وہ عورتیں ہرگزمیرے خاندان یا محلے کی نہیں تھیں اور نہ ہی میں نے کبھی انہیں دیکھا تھا۔ پھر وہ مجھے کیسے جانتی تھیں؟ میں حیرت کی تصویر بنا انھیں دیکھتا جارہا تھا۔ آخر ہمت کر کے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ میں آپ کو نہیں جانتا ! اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا تو میرے گھر آنا چاہئیے تھا۔ یہ جگہ عورتوں کے لئے غیر مناسب ہے۔ ان میں ایک عورت بولی۔ چھوڑو جان پہنچان کو ہم تمھیں جانتے ہیں۔ بس یہی کافی ہے۔ اور ہاں آج رات ہم تمھارے گھر آئیں گی۔ تیار رہنا! یہ کہہ کر وہ دونوں عورتیں واپس چلی گئیں۔ میں انھیں واپس جاتا دیکھتا رہا۔ اور سوچتا رہا ، یہ کون عورتیں تھیں اور مجھے کیسے جانتی تھیں؟ اور مجھ سے انہیں کیا کام ہوسکتا ہے؟ کافی دیر تک سوچنے کے بعد دمیں نے ان کا خیال اپنے ذہن سے یہ سوچ کر جھٹک دیا کہ گھر آئیں گی تو ان سے تفصیل سے پوچھوں گا۔ جب میں جم سے گھر گیا تو ان دونوں عورتوں کاخیال میرے ذہن سے نکل چکا تھا۔ میرا روز کا معمول تھا کہ کھانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چہل قدمی کرتا اور ٹی وی دیکھتا تھا۔ جم سے آنے کے بعد مجھے کافی تھکن ہوجایا کرتی تھی۔ اس لئیے میں جلدی ہی سوجایا کرتا تھا۔ اس رات بھی میں گہری نیند سورہا تھا کہ اچانک میر آنکھ ناجانے کس احساس سے کھل گئی۔ میں نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دیکھا وہ دونوں عورتیں میرے دائیں اور بائیں کھڑی تھیں۔ اس وقت ان کے چہرے نقاب سے آزاد تھے ان کے چہرے کے خدو خال عجیب ڈراؤنے سے تھے۔ جنہیں دیکھ کر مجھے خوف سا محسوس ہورہا تھا۔ خوف کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دروازہ اندر سے بند تھا ۔
پھر یہ کمرے میں کیسے داخل ہوگئیں۔ جب میں نے اس بات کا اظہا ر ان سے کیا ۔ تو ان میں سے ایک عورت بولی! ہم کہیں بھی آ جاسکتی ہیں! ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم سے ملنے کو ! ہم نے کہا تھا نہ آئینگی تو دیکھو ہم آ گئیں۔ آو اب دیر مت کرو! یہ کہ کر و ہ عورت میری طرف بڑھی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا اس نے وہ نازیبا حرکات میرے ساتھ کرنا شروع کر دیں۔ جس کا بتاتے ہوئے بھی مجھے شرم آتی ہے۔ اس عورت کے بعد دوسری عورت نے بھی میرے ساتھ وہی حرکتیں کیں۔ اور کافی دیر تک شیطانی کھیل کھیلنے کے بعد وہ دونوں عورتیں یہ کہ کر غائب ہوگئیں کہ کل ہم پھر آئینگے۔ تیار رہنا یہ کہ کر وہ دونوں میرے نظری کے سامنے سے اوجھل ہوگئیں۔ ان کے جانے کے بعد میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو مجھے اپنے اعصاب پر کنٹرول نہیں آرہا تھا۔ میرا سار ا جسم پوری طرح لرز اور دکھ رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد فجر کی اذانوں کی آواز سن کر میں ہمت کر کے اٹھا وضو کرنے کے بعد نماز ادا کی۔ اللہ سے اپنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگی۔ نماز ادا کر کے میں بستر پر لیٹ گیا۔ میری آنکھ ایسی لگی کہ دن چڑھے تک سوتا رہا۔ امی کے جگانے پر میری آنکھ کھلی۔ میں جلدی سے اٹھا فریش ہو کر ناشتہ کیا اب میں کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔ دن گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ رات کو جب میں اپنے کمرے میں گیا۔ تو کل کا منظر میری نظر وں میں گھوم گیا۔ جسے یاد کر کے مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔ پھر میں نے اپنے دل کو پھر سے تسلی د ی کہ پریشان ہونے کی بجائے مجھے ان کو ان کے ارادوں سے باز رکھنا ہوگا۔ اس کے لئے مجھے ہمت سے کام لینا ہوگا۔ یہ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ رات کو ناجانے کون سے پہر و ہ دونوں عورتیں پھر نمودار ہوئیں۔ اور سوئی ہوئی حالت میں ہی انہوں نے میرے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنا شرورع کر دیں ۔ جس کی وجہ سے میر ی آنکھ کھل گئی۔ میں ان کی گرفت میں بری طرح مچل رہا تھا ۔ وہ ناجانے کیسی فولادی قسم کی عورتیں تھیں کہ باوجود مرد ہونے کے میں ان پر قابو نہیں پا سکا۔ پھر اچانک وہ میری نظروں کے سامنے سے غائب ہوگئیں۔ ان کے جانے کے بعد میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو مجھ سے اٹھا نہیں جارہا تھا۔ میرا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا ۔ میں تو ایسا ز ور دار انسان تھا کہ عام آدمی مجھ سے الجھنے کی غلطی نہیں کرتاتھا۔ پھر میں ان عورتوں سے کیوں پسپا ہوگیا تھا۔ پھر اکثر ایسا ہونے لگا ۔ وہ دونوں عورتیں بے دھڑک میرے کمرے میں آتیں رات بھر گھناؤنا کھیل ، کھیل کر غائب ہوجاتیں۔ میں چاہ کر بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں پاتا تھا۔ وہ انتہائی طاقت ور عورتیں تھیں۔ جبکہ میری تمام قوتیں ناجانے کہاں چلی جاتی تھیں۔ کہ میں ان کے آگے بالکل بے بس ہو کر رہ جاتا۔ یہ بات ایسی تھی کہ مارے شرم کے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔ اس لئیے میں نے چپ سادھ لی کہ کون یقین کرے گا میری ان سب باتوں کا ۔ الٹا سب لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔ مجھے غلط قرار دینگے۔ اس لئیے مجھے چپ ہی رہنا بہتر ہے۔ یہ جو تو مجھے بیزار پڑا دیکھ رہا ہے یہ ان بد بخت گندی عورتوں کی کرنی کا نتیجہ ہے۔ پہلے تو میں لڑ کھڑاکر چل لیا کرتا تھا۔ اب تو مجھ سے چلنا تو دور کی بات بستر سے اٹھا بھی نہیں جاتا۔ میرا ہر کام والدین ہی کرتے ہیں۔ کتنے شرم اور افسوس کا مقام ہے کہ مجھے اپنے والدین کا سہارا بننا چاہئیے تھا الٹا میں ان پر بوجھ بن کر رہ گیا ہوں۔ دعا کرتا ہوں کہ ایسی زندگی سے تو موت ہی آجائے۔ یہ کہہ کر شیری بری طرح رونے لگا ۔ شیری کو روتا دیکھ کر میرا دل دکھ کی شدت سے کٹنے لگا۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا یار مایوسی کی باتیں نہیں کیا کرتے۔ اللہ سے خیر کی دعا کرو۔ وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ میں بھی کوشش کرونگا تمھیں اس مصیبت سے نجات دلانے کے لئے۔ بہت دیر ہوچکی ہے۔ اب میں چلتا ہوں۔ تم فکر مت کرو انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ کہ کر میں اس کے کمرے سے باہر آگیا۔ میں دل ہی دل میں پکا ارادہ کر چکا تھا کہ شیری کو ہر قیمت ان خبیث گندی عورتوں کے چنگل سے نکالوں گا۔ شیری نے مجھے کمر ے سے نکلنے سے پہلے ہاتھ جوڑ کر التجاء کی ان باتوں کا ذکر کسی اور سے نہ کرنا۔ تم میرے دوست ہو اس لئیے تمھیں شریکِ راز کیا ہے۔ ورنہ میں کسی اور کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔ کہ میں کسی سے نظریں نہ ملا پاؤنگا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ شیری لاکھ منع کرے میں یہ بات اس کے والد کو ضرور بتاؤنگا۔ کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھے جس کو نظر انداز کیا جائے ۔ میں شیری کے والد کے پاس پہنچا اور پوری بات انہیں بتا دی۔ اور پھر ان سے کہا کہ انکل آپ دیر نہ کریں۔ شیری کو کسی اچھے عالم کو دکھائیں۔ کہ کہیں خدا نخواستہ شیری کو کوئی نقصا ن نہ اٹھانا پڑے۔ تمام باتوں کو سن کر انکل بولے اگر شیری مجھ پر اعتماد کرکے یہ تمام باتیں مجھے پہلے بتادیتا تو بات اتنی آگے نہ بڑھتی ۔ انکل وہ تو اب بھی اس بات کو راز رکھنا چاہتا
ہے۔ مگر میں ایسی بے وقوفی ہر گز نہیں کرنے دونگا۔ حالانکہ اس تمام قصے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے مگر و ہ شرمندگی سے نظریں نہیں ملا رہا۔ بیٹا میں اپنے بیٹے کو بہت ا چھی طرح جانتا ہوں۔ وہ کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتا۔ اگر وہ مجھے سب کچھ پہلے بتا دیتا تو میں بات آگے بڑھنے ہی نہ دیتا۔ بہر حال میں آ ج ہی سید شاہ صاحب سے ملتا ہوں۔ اس سلسلے میں وہی مدد کرسکتے ہیں۔ انکل میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔ سید شاہ صاحب ہمارے علاقے کے دم درو د کے ماہر جانے جاتے تھے۔ ان کے پاس دور دور سے لوگ آتے تھے۔ ان کی دعا میں بھی بہت اثر تھا۔ وہ عشاء کے بعد بیٹھتے ہیں۔ اور لوگوں کے مسئلے حل کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ میں عشاء کی نماز پڑھ کر شیری کے گھر آگیا پھر اس کے والد کے ہمراہ سید شاہ صاحب کی طرف روانگی ہوئی۔ کچھ دیر کے انتظار کے بعد ہماری باری آگئی ۔ شیری کے والد نے شیری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سید شاہ صاحب کو بتائے۔ جسے سن کر شاہ صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ پھر کچھ دیر کے بعد بولے مسئلہ گنبھیر معلوم ہوتا ہے۔ آپ کل بچے کو لیکر آئیں اسے دیکھنے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے دن ہم شیری کو لیکر سید شاہ صاحب کے پاس پہنچے ۔ شیری کو لیکر ہم وہاں کس طرح پہنچے یہ ایک الگ داستان ہے۔ شیری کو دیکھنے کے بعد شاہ صاحب نے کہا اس بچےپر جن زادیاں عاشق ہوگئ ہیں وہ بھی شیطان کی پیرو کار جن زادیاں۔ ان سے بچنا نہائت مشکل ہے تاہم ناممکن نہیں ہے۔ ان سے نمٹنا مشکل عمل ہے اور وقت طلب بھی ۔ میں انتہائی معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا ۔ لیکن میں آ پ کو ایک جگہ کا پتہ دے رہا ہوں۔ پیر غواری شاہ بخاری کی درگاہ پر موجود شاہ جی کے پاس جائیں۔ انشاء اللہ آپ کے بچے کو ان خبیث جن زادیوں سے نجات مل جائیگی۔ البتہ میں یہ دم کیا ہوا پانی د ے رہا ہوں اسے مسلسل پلائیں۔ ساتھ ہی یہ عمل کرتے جائیں۔ انہوں نے ایک عمل بھی کرنے کے لئے دیا تھا ۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدائت کی کہ کسی بھی صورت میں دیر نہ کریں وہاں جانے کے لئے اور نہ ہی عمل کو روکیں۔ ورنہ وہ جن زادیاں اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے وہ اس کے پاس تو نہ آسکیں گی مگر آپ اسے لیکر کل ہی روانہ ہوجائیں ۔ سید شاہ صاحب کے دیے ہوئے پانی اور عمل کی وجہ سے شیری کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ دوسرے دن ہم پیر غواری شاہ بخاری کی درگاہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ یہ ڈھیرکی سے آدھے گھنٹے کی مصافت پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جب ہم اس گاؤں میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مرد عورتیں اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے قد عام انسانوں سے زیادہ تھیں۔ جبکہ وہ سب کے سب سانولے تھے۔ اور سب کی شکلیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں۔ ان کے چہرے پر آنکھیں اور ناک نمایاں تھے۔ ناک اتنی بڑی تھی کہ کوئی بھی اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ سکتا تھا۔ یہ ایک ایسی بستی تھی جہاں حیرت ہی حیرت تھی۔ گاؤں چھوٹا سا تھا اسلئیے درگاہ تک پہنچنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ ہم درگاہ کے اندر داخل ہوئے تو سامنے دریاں بچھی ہوئی تھیں۔ ہم ان دریوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ یہاں آکر شیری بہت ہی اضطراب کی حالت میں دکھائی دے رہا تھا ۔ بری طرح بے چین ہو رہا تھا۔ اگر ہم اس کا ہاتھ نہ تھامے ہوتے تو شائد وہ درگاہ سے اٹھ کر بھاگ جاتا ۔ ہمارے وہاں بیٹھنے کے کچھ دیر بعد درگاہ میں ایک مرد داخل ہوا۔ اور ہمیں کہنے لگا کہ ہم آرام سے بیٹھیں۔ شاہ جی ابھی تشریف لاتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر واپس چلا گیا۔ اس کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد وہاں ایک عورت ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی اور پیالا لئیے حاضر ہوئی ۔ ا س بالٹی میں پانی تھا۔ اس نے پانی پیالے میں انڈیلا اور باری باری ہم سب کو پانی پینے کے لئے دیا۔ ہم سب نے وہ پانی خاموشی سے پی لیا ہمارے پانی پینے کے بعد وہ عورت بالٹی اور پیالا واپس لے گئی۔ کچھ دیر کے بعد ایک رعب دار شخصیت داخل ہوئی۔ انھیں دیکھ کر ہی ہمیں اندازہ ہوگیا۔ کہ یقیناً یہ شاہ جی ہیں۔ پھر انہوں نے ہم سے اپنے آنے کا مقصد پوچھا۔ شیری کے والد نے مختصراً تمام قصہ کہہ سنایا۔ پھر تمام باتیں سننے کے بعد انہوں نے شیری کے والد سے کہا کہ سب سے پہلے تو اس لڑکے کے گلے اوربازؤں سے بندھے تمام تعویز نکال کر اس ڈبے میں ڈال دیں ۔
انہوں نے کونے میں رکھے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ان کے کہنے پر شیری کے گلے اور بازو کے تمام تعویز نکال کر کونے میں رکھے ڈبے میں ڈال دیے گئے ۔ جس سے شیری کی بے چینی میں اب فر ق آیا ۔ پھر شاہ جی نے شیری پر دم کیا۔ ان کے دم کرنے سے شیری بالکل پر سکون ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ عورت جو ہم سب کو پانی پلا کر گئی تھی۔ پھر آئی اب کی بار اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ اس نے پہلے دستر خوان بچھایا۔ پھر اس پر کھانا چن دیا۔ پھرواپس چلی گئیں۔ اس کے جانےکے بعد شاہ جی نے ہمیں کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں۔ اور ہمارے ہاں مہمان نوازی کا رواج ہے۔ دیر نہ کریں آجائیں۔ ہم کھانے کے دستر خوان کے قریب آگئے۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو شاہ صاحب نے ایک دم کی ہوئی پانی کی بوتل دیتے ہوئے کہا کہ اس پانی کو بلا ناغہ اس بچے کو پلانا ہے۔ اگر پانی ختم ہونے لگے تو اس میں دوسرا پانی ڈال لیں۔اس طرح اگلے منگل تک اس پانی کو پلانا ہے ۔ اگلے منگل کو جب آئیں تو اس بوتل کو اپنے ہمراہ لانا نہ بھولیں۔ ہم نے شاہ جی کا شکریہ ادا کیا۔ سلام کرکے درگاہ سے باہر آگئے۔ گاڑ ی میں سوار ہو کر گھر کا راستہ لیا۔ اگلے منگل کو ہم پھر غواری شاہ کی درگاہ پر پہنچے گزشتہ منگل سے اب تک شیری کی حالت میں کافی فر ق آیا تھا۔ اب وہ بیڈ پر سے خود بیٹھنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس بار بھی جب ہم درگاہ پر پہنچے تو حسبِ روایت پہلے پانی کی بالٹی اور پیالہ لایا گیا۔ ا س نے دستر خوان لگایا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔ شاہ جی نے ہمیں کھانا کھانے کو کہا۔ ہم میں سے کسی میں بھی یہ جرات نہ تھی۔ کہ ہم کھاناکھانے سے انکار کرتے ۔ لہذا سب نے انتہائی خاموشی سے کھانا کھایا کھانے سے فارغ ہوئے تو عورت آئی۔ دستر خوان سمیٹ کر چلی گئی۔ شاہ جی نے شیری پر دم کیا۔ اور اسی بوتل میں دوسرا پانی دم کر کے دیا۔ پھر کہنے لگے کہ سات منگل تک آنا ہے۔ انشاء اللہ آپ کا بیٹا اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوجائے گا۔ اگر پانی ختم ہوجائے تو دوسرا پانی ڈال لیا جائے ۔ پھر ہم لوگوں نے اجازت چاہی اور گاڑی کے ذریعے گھر آگئے ۔ علاج کے دوران ایک بار بھی وہ خبیث اور گندی جن زادیاں شیری کے پاس پھر نہ آسکیں۔جس کی وجہ سے شیری تیزی سے بہتر ہوتا جارہا تھا۔ اور ایک وقت آگیا کہ شیری اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ اور یہ سب اللہ کے کر م کی وجہ سے ہو ا تھا۔ ہم باقاعدگی سے ہر منگل درگاہ میں جاتے ہر بار وہی عورت سب سے پہلے پانی لاتی ، پھر کچھ دیر بعد کھانا پروستی ۔
اتنے دنوں سے ہم وہاں جارہے تھے
اس دوران میں اس عورت نے کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی کسی سے مخاطب ہوئی تھی۔ بہر حال ہمیں ان سے کیا لینا دینا تھا۔ ہمارے لیئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ ہمارے کام آرہی تھی۔ بلآخر ساتواں منگل آ پہنچا شیری بالکل ٹھیک ہوچکا تھا۔ ہم شیری کو لیکر درگاه پہنچے ۔ حسب معمول پہلے ہمارا پانی اور پھر کھانے سے تواضع کی گئی ۔ کچھ دیر بعد شاہ جی آمد ہوئی۔ انہوں نے شیری پر دم کیا۔ پھر دم کی ہوئی پانی کی بوتل دیتے ہوئے کہا۔ آپ کا بیٹا اللہ کے فضل و کرم سے ٹھیک ہوگیا ہے۔ اب دونوں خبیث شیطان جن زادیاں کبھی اسے تنگ نہیں کرینگی لیکن اب آپ کو ایک کام کرنا ہوگا کہ یہ لڑکا جو جم سنٹر چلاتا ہے۔ وہ جم سنٹر اس کو چھوڑنا پڑے گا۔ آپ لو گوں کے ذہنوں میں اب یہ سوال اٹھیں گے کہ شیری کی طبیعت کا اس جم سنٹر سے کیا تعلق ہے۔ میں مختصراً آپ کو بتاتا ہوں کہ اس جم سے سنٹر سے پہلے وہاں جو گھر تھا۔ وہ جنات کے قبضے میں تھا۔ حالانکہ آپ لوگوں نے اجازت سے اس جم سنٹر کی تعمیر کرائی تھی۔ مگر جو وہ جنات تھے اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس لئیے نتیجہ آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ بہر حال جو ہوا اس قصے کو چھوڑیں۔ اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کا بیٹا اور خبیثوں کے چنگل سے آزاد ہوچکا ہے۔ وہ کبھی پھر اس کو ستانے کی جرات نہیں کرینگی۔ اب یہ لڑکا اس جم سنٹر کی طرف کبھی بھول کر بھی رخ نہ کرے۔ یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا۔ ہم نے ان سے اجازت چاہی تو وہ کہنے لگے آپ کے بیٹے کو مزید علاج کی ضرورت نہیں ہے اس لئیے اب آپ نے یہاں نہیں آنا ۔ بہت کوئی ضروری کام ہوا تو آیا جاسکتا ہے ورنہ یہاں
کا دوباره رخ نہ کرنا ان کی شخصیت کا رعب ایسا تھا۔ کہ کوئی بھی کیوں کا سوال نہ کر سکا۔ ہاں میں سر ہلا کر ہم سب وہاں سے گھر آگئے۔ اب شیری بالکل ٹھیک ہے اس نے اپنے تمام شوق چھوڑ دیے ہیں۔ اس کی حالت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اور نہ وہ پہلے جیسا حسین رہا ہے۔ کوئی بھی دیکھ کر یہ نہیں کہ سکتا یہ کبھی خوبصورت بھی رہا ہوگا۔ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہوگا دوسری طرف شیری اپنے ماضی کو دہرانا بھی نہیں چاہتا۔ جبکہ مجھے اس کا ماضی بھی یاد ہے۔ اور وہ عجیب و غریب گاؤں بھی جہاں چاہنے کے باوجود بھی ہم میں سے کسی نے وہاں کا رخ نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ کہانی سچ نہ لگے لیکن یہ بالکل ناقابل یقین سچی کہانی ہے....

